Saturday, July 9, 2016

حضرت جنید بغدادیؒ

18جون 2016



﷽   

ایک مرتبہ دورانِ وعظ کسی نے حضرت جنید ؒ سےعرض کیا کہ آپ کا وعظ  میری فہم سے بالاتر ہے، آپؒ نے فرمایا کہ اپنی ستر سال کی عبادت قدموں کے نیچے رکھ کہ سر نگوں ہوجا۔ اِس کے بعد بھی اگر سمجھ نہ آئے تو  یقیناَ میرا قصور ہوگا۔۔


----------------------------------------


حضرت جنید بغدادیؒ سے کسی نے سوال کیا کہ قلب کو مسرت کس وقت حاصل ہوتی ہے؟ آپ ؒ نے فرمایا  کہ جب اللہ تعالی قلب میں ہوتا ہے


-------------------------------------


کسی نے حضرت جنید بغدادیؒ کی خدمت میں پانچ سو دینار پیش کئے تو آپ ؒ نے پوچھا کہ تمہارے پاس اور رقم بھی ہے؟ اُس نے اثبات میں جواب دیا تو  آپؒ نے پوچھا مزید مال کی بھی حاجت ہے ؟ اُس شخص نے کہا ہاں،  آپؒ نے فرمایا کہ پانچ سو دینار واپس لے جا کیونکہ تو اِس کے لئے مجھ سے ذیادہ حاجت مند ہے اور میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے لیکن مجھے حاجت نہیں اور تیرے پاس مزید رقم موجود ہے پھر بھی تو محتاج ہے



------------------------------------ 


 حضرت جنید بغدادیؒ فرمایا کرتے تھے کہ اخلاص کی تعلیم میں نے ایک حجام سے سیکھی، اور واقعہ اس طرح پیش آیا کہ مکہ معظمہ میں قیام کے دوران  ایک حجام کسی دولت مند کی حجامت بنا رہا تھا تو میں نے اُس کے کہا کہ خدا کے لئے میری حجامت بنا دے۔ اُس نے دولت مند کی حجامت چھوڑ کر میرے بال کاٹنے شروع کر دئے،حجامت کرنے کے بعد ایک کاغذ کی پڑیا مجھے دے دی جس میں کچھ ریزگاری تھی۔ اور مجھ سے کہا کہ آپ اسکو خرچ میں لائیں۔وہ پڑیا میں نے لے لی اور نیت کی کہ اب پہلے مجھےجو کجھ بھی دستیاب ہوگا وہ حجام کو نذر کروں گا۔ چنانچہ کچھ عرصے بعد  ایک شخص نے بصرہ میں اشرفیوں کی لبریز تھیلی مجھکو پیش کی۔ وہ لے کر جب میں حجام کے پاس آیا تو اُس نے کہا کی میں نے تو تمہاری خدمت صرف اللہ تعالی کے لئے کی تھی اور تم بے حیا بن کر مجھے تھیلی پیش کرنے آئے ہو کیا تمہیں اس بات کا علم نہیں کہ خدا کے واسطے کام کرنے والا کسی سے کوئی معاوضہ نہیں لیتا؟

-----------------------------------


کسی نے حضرت جنید بغدادی ؒ سے عرض کیا کہ نفس کا کیا علاج ہے ؟ آپؒ نے فرمایا کہ نفس کی مخالفت اس کا واحد علاج ہے



------------------------------------------




کسی نے حضرت جنید بغدادی ؒ سے بھوکا نگا  رہنے کی شکایت کی تو آپؒ نے فرمایا خدا تجھے ہمیشہ بھوکا ننگا رکھے کیونکہ یہ نعمت وہ اپنے مخصوص بندوں ہی کو عطا کرتا ہے اور وہ کبھی اس کے شاکی نہیں ہوتے۔



------------------------------------------



ایک نوجوان پر حضرت جنید بغدادیؒ کی مجلس میں ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ اُس نے توبہ کر کے گھر میں پہنچ کر سارا سامان خیرات کردیا اور ایک ہزار دینار آپ ؒ کو نذر کرنے کے لئے روانہ ہوا تو راستے میں لوگوں نے کہا کہ تم اِن ایک ہزار دینار کو دنی امیں کیوں گرفتار کرنا چاہتے ہو؟ یہ سب کر اُس نو جوان نے تمام دینار دجلہ میں پھینک دئیے اور آپؒ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپؒ نے فرمایا کہ تم میری صحبت کے اس لئے اہل نہیں ہو کہ تم نے ایک ایک کر کے جو ایک ہزار دینار دریا میں پھینکے وہ کام تو ایک مرتبہ میں بھی ہو سکتا تھا

------------------------------------------


قدرت کا مشاہدہ کرنے والا سانس تک نہیں لے سکتا اور عظمت کا مشاہدہ کرنے والا حیرت زدہ رہتا ہے اور ہیبت کا مشاہدہ کرنے والا سانس لینے کو کفر سمجھتا ہے


---------------------------------------




بہت افضل ہے وہ انسان جس کو ایک لمحہ کے لئے بھی  قرب الہٰی حاصل ہوا ہو

--------------------------------





No comments:

Post a Comment