حضرت جنید بغدادیؒ
﷽
صوفی وہ ہے جو خدا اور رسول کی اس طرح اطاعت کرے کہ ایک ہاتھ میں قرآن ہو اور دوسرے ہاتھ میں حدیث
--------------------------
﷽
مخلوق کی معصیت کاری میرے لئے یوں وجہ اذیت ہے کہ میں مخلوق کو اپنا عصا تصور کرتا ہوں، کیونکہ مومنین ذات واحد کی طرح ہیں۔ اِسی لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جتنی اذیت مجھے ہوئی اُتنی کسی نبی کو نہیں ہوئی۔
-----------------------------
﷽
میں عرصہ دراز تک اِن معصیت کاروں کی حالت پر نوحہ خواں رہا لیکن اب مجھے نہ اپنی خبر ہے نہ ارض و سما کی۔
---------------------------------------
﷽
دس سال تک قلب نے میرا تحفظ کیا اور دس سال تک میں نے اس کی حفاظت کی، لیکن اب یہ کیفیت ہے کہ نہ مجھے دل کا حال معلوم ہے نہ دل کو میرا
---------------------------------
8
﷽
میں بیس سال سے صرف ظاہری تصوف بیان کرتا ہوں، کیونکہ اُس کے نکات بیان کرنے کی مجھے اجازت نہیں
حضرت جنید بغدادیؒ
------------------------
9
﷽
اگر محشر میں خدا مجھے دیدار کا حکم سےگا تو میں عرض کروں گا چونکہ آنکھ غیر ہے اور میں غیر کے ذریعے دوست کا مشاہدہ کرنا نہیں چاہتا
حضرت جنید بغدادیؒ
--------------------------------
10
﷽
جب میں اس حقیقت سے آگاہ ہوا کہ کلام وہ ہوتا ہے جو قلب سے ہو تو میں نے تیس سال کی نمازوں کا اعادہ کیا، اس کے بعد تیس سال تک یہ التزام کیا کہ جس وقت بھی نماز کے اندر دنیا کا خیال آجاتا تو وہ نماز دوبارا ادا کرتا، اور اگر نماز میں آخرت کا تصور آ جاتا تو سجدہ سہو کرتا
حضرت جنید بغدادیؒ
---------------------------
11
﷽
ایک مرتبہ دورانِ واعظ حضرت جنید بغدادیؒ کی مجلس میں چالیس افراد میں سے بائیس پر غشی طاری ہو گئی اور اٹھارہ انتقال کر گئے
تذ کرۃ اولیاء
-----------------------------
12
﷽
کسی نے حضرت جنید بغدادیؒ سے سوال کیا کہ آپؒ کو یہ مراتب کیسے حاصل ہوئے، آپؒ نے فرمایا میں ایک ٹانگ سے چالیس سال تک اپنے مرشد کے در پر کھڑا رہا ہوں
تذ کرۃ اولیاء
----------------------------
13
﷽
حضرت روئم ؒ کو جنگل میں ایک بڑھیا نے یہ پیغام دیا کہ بغداد پہنچ کر جنیدؒ سے یہ کہنا کہ تمہیں عوام کے سامنے ذکر الہٰی کرتے ہوئے ندامت نہیں ہوتی ؟
یہ پیغام سن کر حضرت جنید بغدادیؒ نے فرمایا کہ میں عوام کے سامنے اس لئے اُس کا ذکر کرتا ہوں کہ کسی سے بھی اُس کا حقِ ذکر ادا نہیں ہو سکتا
تذکرہ الاولیاء
--------------------------------------
14
﷽
حضرت جنید بغدادیؒ کسی درویش کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے تو وہ مصروف گریہ تھا۔ آپؒ نے سوال کیا کس کی عطا کردہ اذیت پر گریہ کرتا ہے اور کس سے اس کی شکایت کرنا چاہتا ہے ؟ درویش یہ سب کر ساکت ہو گیا تو آپؒ نے پھر پوچھا کہ خیر کا تعلق کس کے ساتھ ہے ؟
اُس درویش نے عرض کیا کہ نا رونے کی اجازت ہے نہ صبر کی قوت
تذکرۃ الاولیاء
------------------------------------------------------
15
﷽
حالت درد میں ایک دفعہ حضرت جنید بغدادیؒ نے سورہ فاتحہ پڑھ کر اپنے پاوں پر دم کر لی تو ندا آئی کہ تجھے نادم ہونا چاہئے اپنے نفس کی خاطر ہمارے کلام کا استعمال کرتا ہے
حضرت جنید بغدادیؒ
-----------------------------------------------
16
﷽
لوگوں نے حضرت جنید بغدادیؒ سے گریہ و زاری کا سبب پوچھا تو فرمایا کہ تا حیات میں صیبت و بلا کی جستجو میں رہا کہ اگر وہ اژدہا بن کر سامنے آجائے تو میں سب سے پہلے اُس کا لقمہ بن جاوں لیکن آج تک یہی حکم ملتا رہا کہ ابھی تیری ریاضت بلا کے مقابلہ میں جم نہیں سکتی
تذکرۃ الاولیاء
------------------------------------
No comments:
Post a Comment